ابنا: عالمی یوم القدس عالمی استکبار کے مظالم اور منہ زوری کے مقابلے میں مسلمانوں کی فریاد کا دن ہے۔ عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کے سب سے بڑے مسئلے اور دنیائے اسلام کی توجہ کے مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔ کل پوری دنیا کے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام حق پسند لوگوں کو میدان میں نکلنا ہو گا اور خاص طور پر مسلمانوں کے جہاد و ایثار اور جدوجہد کے میدان میں ہی فلسطین کا مستقبل بنےگا اور قدس کی آزادی، نہ صرف مسلمان قوموں بلکہ دنیا کی تمام حریت پسند قوموں کا مطالبہ ہے۔ عالمی یوم القدس نے فلسطین کے مسئلے میں مسلمانوں کو میدان عمل میں اتار کر نہ صرف اس سلسلے میں حکمرانی کا توازن تبدیل کردیا بلکہ صیہونزم اور اس کے عالمی حامیوں کو کمزور پوزیشن میں لاکھڑا کردیا۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں غزہ پر صیہونی حملے اور عالمی یوم القدس کے بارے میں فرمایا ہے کہ صہیونی حکومت کے جرائم کا علاج صرف اس غاصب حکومت کے خاتمے میں ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے عوام کے خلاف صہیونی حکومت کے حالیہ جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ انسانی تصور سے بالاتر یہ جرائم، درحقیقت صہیونی حکومت کی بھیڑیا صفت اور بچوں کی نسل کشی پر مبنی طینت کا حصہ ہے اور اس کا علاج صرف صہیونی حکومت کی نابودی اور اس کا خاتمہ ہے، البتہ اس وقت فلسطینیوں کی ٹھوس اور مسلح مزاحمت اور غرب اردن میں اس کی توسیع اس وحشی حکومت کے مقابلے کی تنہا راہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا غزہ کے مظلوم عوام کو اس وقت جن مصائب کا سامنا ہے وہ اس غیرقانونی و جعلی صہیونی حکومت کی 66 سالہ عمر میں وحشیانہ جارحیت پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے اور غاصب صہیونی حکومت متعدد بار بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس قسم کی گستاخیاں انجام دیتی رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کے اس ارشاد کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ اسرائیل کو حتمی طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ البتہ اسرائيل کی نابودی اس علاقے سے یہودی عوام کی نابودی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کے لئے منطقی اور عملی کام کی ضرورت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حوالے سے راہ حل عالمی اداروں میں پیش کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا اس کام کے لئے ضروری ہے کہ اس علاقے میں زندگی بسر کرنے والے عوام اور وہ افراد کہ جن کا تعلق اس علاقے سے ہے، وہ اپنی من پسند حکومت کے لئے ایک ریفرنڈم کا اعلان کریں اور اس کے ریفرنڈم کے ذریعے غاصب و جعلی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جنگ بندی کے لئے صہیونیوں کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسی حکومت کہ جو انسان کے تصورات سے بالاتر جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے، فلسطینیوں کی طاقتور مزاحمت کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے اور کسی بھی راہ حل کے درپے ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صہیونی صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عالمی سامراج اور ان میں سرفہرست امریکہ کی جانب سے صہیونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات اور ظلم و بربریت کی حمایت اور غزہ کے عوام کے خلاف ان وحشیانہ جرائم کی حمایت اور دفاع کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ چند مغربی حکومتیں خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کی خبیث حکومتیں ایسے جرائم کہ جن کو کوئی بھی انسان قبول نہیں کرسکتا، کا دفاع اور حمایت کررہی ہیں اور امریکی صدر بے شرمانہ طریقے سے کہتا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ غزہ کے مظلوم عوام پر روا رکھی جانے والی بربریت کے حوالے سے تسط پسندوں کے رویّے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ انسانی حقوق اور انسانیت پر سرے سے اعتقاد ہی نہیں رکھتے ہیں اور آزادی و انسانی حقوق کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں وہ آزادی و انسانی حقوق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے جوابی میزائیلی حملوں سے صیہونی خوف و دہشت کا شکار ہیں اور اب کسی بھی طریقے سے جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حماس کے رہنما خالد مشعل نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جنگ بندی کے لیے شرط یہ ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے۔
خالد مشعل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک حماس کسی بھی سمجھوتے سے قبل غزہ کے محاصرے کے خاتمے کی خواہاں ہے اور موجودہ صورت حال یا مستقبل میں کسی بھی قسم کی جنگ بندی، غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئي بھی اسلامی مزاحمت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ خالد مشعل نے صہیونی حکومت کے وزیر اعظم نتن یاہو کو ایک ہارا ہوا فرد قرار دیا اور کہا کہ فلسطین کی مزاحمت نے ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ اسرائیل کی غاصب فوج سے طاقتور اور قوی ہے۔
وہ دن دور نہیں کہ جب ساری دنیا سے لا کر بسائے گئے صیہونی اپنی زندگیوں کو خطرے میں دیکھ کر یہاں سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جائيں گے کیونکہ یہ ان کا مادری وطن نہیں ہے بلکہ انہیں لا کر یہاں بسایا گيا ہے اوریہ فلسطینی ہیں جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں اور ہر حالت میں یہیں پر رہیں گے۔ ان کا جینا اور مرنا اپنی مادر وطن کے ساتھ ہے۔
.......
/169